بنگلورو،30؍مئی(ایس او نیوز) مرکزی حکومت کی طرف سے ہوٹلوں پر لاگو مجوزہ 12تا18 فیصد جی ایس ٹی کی مخالفت کرتے ہوئے آج شہر میں ہوٹل مالکان کی طرف سے یک روزہ ہڑتال کا جو اعلان کیاگیاتھا اس آواز پر ملا جلا ردعمل دیکھا گیا۔ بنگلور میں اس بند پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیشتر ہوٹل بند رہے، جبکہ ریاست کے دیگر علاقوں میں بند کا کوئی اثر دیکھا نہیں گیا۔ منگلور میں آج ہوٹل حسب معمول کھلے رہے، شہر میں ہوٹل مالکان نے میسور بینک سرکل کے قریب مرکزی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ہوٹل مالکان کی ریاستی انجمن کے چیرمین چندر شیکھر ہبار نے کہاکہ مرکزی حکومت کی طرف سے نان اے سی ہوٹلوں پر بارہ فیصد اور اے سی ہوٹلوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی لادنے کا فیصلہ زیادتی ہے۔ مرکز کے اس فیصلے سے ہوٹلوں کی طرف گاہک رخ کرنا بند کردیں گے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کم از کم ٹیکس گھٹا کر پانچ فیصد کرے ، بارہ اور 18 فیصد ٹیکس قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکے گا۔ آج شہر میں درشنی ، ساگر، کیندرا اور اڈپی ہوٹلیں جن کی تعداد تقریباً ایک ہزار ہے بند رہیں ، جس کی وجہ سے عوام کو پریشانی اٹھانی پڑی ، اس کے علاوہ آن لائن دواؤں کی فروخت کی اجازت دینے مرکزی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے آج ریاست بھر میں دواؤں کی دکانیں بھی مکمل طور پر بند رہیں۔ دواؤں کی خریداری کیلئے مریضوں کو پریشانی اٹھانی پڑی۔ تاہم اسپتالوں میں ہنگامی ضرورتوں کیلئے دواؤں کی فراہمی ہڑتال کے دائرہ میں شامل نہیں رہیں۔ ریاست بھر میں آج 28 ہزار سے زائد دواؤں کی دکانیں بند رہیں۔ احتیاطی طور پر حکومت کی طرف سے چند متبادل انتظامات کئے گئے تھے، جو ناکافی رہے۔ کمس ، بورنگ ، وکٹوریہ اور دیگر اسپتالوں میں بعض دواؤں کی دکانیں کھلی رہیں اور دواؤں کی فراہمی کیلئے محکمۂ صحت کی طرف سے نوڈل افسران کا تقرر کیاگیا ۔ ریاست کے تمام علاقوں میں دواؤں کی دکانوں کے اس بند پر زبردست ردعمل کا اظہار کیا گیا۔